اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کی اسلامی جمعیت الوفاق نے برطانوی استعمار سے ملک کی آزادی کی 55ویں سالگرہ کے موقع پر جاری بیان میں بحرین کی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اب بھی خطرناک انحصار اور اپنی سرزمین پر مکمل خودمختاری کے فقدان سے دوچار ہے۔
الوفاق نے کہا کہ بڑی طاقتیں بحرین کی سرزمین کو خطے میں فوجی کارروائیوں کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، جبکہ موجودہ علاقائی حالات خطے کے تمام ممالک کے لیے انتہائی حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔
جمعیت نے بحرینی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عوامی حمایت کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے اور قومی اتفاقِ رائے کے بجائے ایسے غیر ملکی منصوبوں میں شمولیت اختیار کر رہی ہے جو بحرینی عوام کے مفادات کے خلاف ہیں۔ الوفاق نے خصوصاً صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
الوفاق نے کہا کہ ایسے وقت میں جب صہیونی حکومت غزہ اور لبنان کے عوام کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کر رہی ہے اور شام سمیت مزید عرب و اسلامی علاقوں پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے، بحرین کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا عوامی مفادات کے منافی ہے۔
بیان میں بحرین کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملک کی سرزمین کو خطے کے دیگر ممالک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور بحرین کی سرزمین، فضائی حدود اور علاقائی پانیوں پر مکمل قومی خودمختاری یقینی بنائی جائے۔
الوفاق نے تمام فوجی معاہدوں پر نظرثانی، ایک متفقہ قومی دفاعی و سکیورٹی پالیسی تشکیل دینے اور بحرین کو ایسے علاقائی منصوبوں سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا جو خطے کے عوام کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے۔
جمعیت نے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے منصوبوں میں بحرین کی شرکت ختم کرنے، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے ختم کرنے اور بحرین میں موجود اسرائیلی سفارتی، انٹیلی جنس، فوجی، ثقافتی اور تجارتی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
الوفاق نے ملک میں بنیادی سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی نظام میں تبدیلیاں عوامی حمایت اور اس اصول کی بنیاد پر ہونی چاہئیں کہ تمام اختیارات کا سرچشمہ عوام ہیں۔
بیان میں بحرین کے شیعہ شہریوں کے خلاف حالیہ داخلی کریک ڈاؤن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور علما و سیاسی قیدیوں کی رہائی، سکیورٹی کارروائیوں کے خاتمے اور منصفانہ عدالتی عمل کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
الوفاق نے واضح کیا کہ بحرینی عوام کو اپنے سیاسی حقوق، قومی تشخص اور ملک کی مکمل آزادی و خودمختاری کے حصول کا حق حاصل ہے اور محض ان کی مذہبی و قومی شناخت کی بنیاد پر ان کی وفاداری پر سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ